جمائما کا عمران پر فدا ہونا

’’ جمائما کا عمران پر فدا ہونا ‘‘وہ ایک ارب پتی باپ کی بیٹی تھیں۔ لیڈی ڈیانا کی سہیلی تھیں۔ ان کے ہمراہ ہسپتال دیکھنے آئیں اور عمران خان کے ۔۔۔۔۔۔ ویسے تو عمران خان اور میاں نواز دو ایسے سیاستدان ہیں جو سیاست کے میدان میں ہمہ وقت برسرپیکار نظر آتے ہیں مگر ان کے ساتھ دو ایسے سیاستدان بھی ہیں جو دونوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ یہ دو سیاستدان شیخ رشید اور حنیف عباسی ہیں۔

شیخ رشید صاحب میاں نوازشریف صاحب کو نااہل قرار دلوانے میں پیش پیش تھے چنانچہ یہ کامیاب ہو گئے۔ جناب حنیف عباسی نے عمران خان صاحب اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دلوانے کی جدوجہد شروع کر دی۔ حنیف عباسی ستر فیصد ناکام ہو گئے اور تیس فیصد کامیاب ہو گئے۔ ستر فیصد ناکام اس لئے ہوئے کہ عمران خان کو سپریم کورٹ نے صادق و امین قرار دے دیا جبکہ جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا۔ جہانگیر ترین کی نااہلی کو ہم نے حنیف عباسی کی 30فیصد کامیابی اس لئے کہا ہے کہ ترین صاحب یونیورسٹی کے پروفیسرز، زمیندار اور صنعتکار ہیں۔ لندن میں حلال کی ایک کمائی ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے نااہل ہوئے ہیں۔ ان کا جمہوری رویہ سامنے آیا جو انتہائی قابل تحسین ہے کہ جہانگیر ترین جو تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل تھے انہوں نے فوراً یہ عہدہ چھوڑ دیا۔ لہٰذا میرے خیال میں حنیف عباسی کی کامیابی کے نمبر اور کم ہو گئے۔ اب ان کی کامیابی صرف پندرہ فیصد رہ گئی۔ یوں شیخ رشید صاحب سو فیصد کامیاب ہوئے تو حنیف عباسی صرف 15فیصد کامیابی حاصل کر سکے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کو صادق و امین قرار دیا تو اس کا سبب بھی واضح کیا کہ

وہ عوامی خدمت کے کسی سیاسی عہدہ پر فائز ہی نہیں رہے لہٰذا اقتداری کرپشن کا ان سے کیا تعلق؟ اسی طرح بنی گالہ میں انہوں نے جو گھر بنایا وہ ان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ صاحبہ نے ان کو تحفہ دیا۔ لندن کا فلیٹ خان صاحب نے اپنی کرکٹ کی کمائی سے لیا۔ یوں عمران خان سیاست کے میدان میں واحد لیڈر ہیں جن کو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے صادق و امین قرار دیا ہے۔ یوں اب تحریک انصاف والے عمران خان کو صادق و امین کہہ کر اپنی پارٹی کے انصاف کے ترازو کو مزید بلند کر سکتے ہیں۔ یہ موقع حنیف عباسی کی رٹ نے فراہم کیا ہے لہٰذا عمران خان کے لئے جناب حنیف عباسی کی مندرجہ بالا خدمت کو ملاحظہ کیا جائے تو محسوس مجھے یہ ہوتا ہے کہ میاں نوازشریف میرے دیئے ہوئے پندرہ نمبر بھی واپس لے لیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو جناب حنیف عباسی کی کامیابی زیرو ہو جاتی ہے۔ اسے مکمل ناکامی بھی کہا جا سکتا ہے۔یاد آیا محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کا دورِ حکومت تھا جب شوکت خانم ہسپتال میں بم دھماکہ ہوا تھا۔ ان دنوں میں محترم عمران خان کی خدمت میں اظہارِ افسوس کے لئے حاضر ہوا تھا۔ ساتھ انگریزی

ترجمے والا ایک قرآن بھی ان کی اہلیہ محترمہ کے لئے لے گیا تھا۔ ان دنوں خان صاحب اور جمائمہ صاحبہ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ وہ ایک ارب پتی باپ کی بیٹی تھیں۔ لیڈی ڈیانا کی سہیلی تھیں۔ ان کے ہمراہ ہسپتال دیکھنے آئیں اور عمران خان کے جذبہ انسانیت کو دیکھ کر مسلمان ہوئیں اور اسلام اور پاکستان کی بیٹی یوں بن گئیں کہ خان صاحب کی اہلیہ بن گئیں۔آج خان صاحب صادق و امین ٹھہرے ہیں تو جمائمہ کے تعاون سے صادق و امین ٹھہرے ہیں کہ انہوں نے لندن سے جو رقم منگوائی تھی اس کا ثبوت عدالت کو فراہم کر دیا۔ یہی رونا خان صاحب اپنی تقریروں میں رویا کرتے تھے کہ میں تو باہر سے پیسہ پاکستان لایا اور حلال کا پیسہ لایا جبکہ میرے مخالف پاکستان سے پیسہ باہر لے کر گئے اور حرام کا مال لے کر گئے۔ میں اور یہ لوگ برابر کیسے ہو گئے؟ خان صاحب اب سینے پر ہاتھ مار کر کہہ سکتے ہیں کہ میں سپریم کورٹ کا رجسٹرڈ صادق و امین ہوں۔یہاں جمائمہ خان کے کردار کو خراج تحسین پیش نہ کیا جائے تو اس سے بڑھ کر بخل اور تنگ دلی نہ ہو گی کہ خواتین کا جو عمومی مزاج ہے وہ

تو الزام تراشی کا ہے۔ خاوند سے شکوہ ہو تو بیوی ہوتے ہوئے بھی جگہ جگہ خاوند کی بدنامی کا ہے۔ جمائمہ اپنے سابق شوہر عمران خان کی مطلقہ ہو گئیں مگر شکوے کا ایک جملہ نہ بولا۔ اپنے دونوں بچوں کو اپنے حق میں کر کے باپ کے خلاف نہ کیا بلکہ باپ کا فرمانبردار بنایا۔ عمران خان نے ریحام خان سے شادی کی تب بھی اس نے ہونٹوں کو سوئی دھاگے سے پروئے رکھا۔ طلاق ہوئی تب بھی کوئی طعنہ نہ دیا۔ اس کے برعکس سابق شوہر پر مشکل وقت آیا تو حق کا ساتھ دیتے ہوئے ثبوت فراہم کر دیا۔ حقیقت یہ ہے جمائمہ کے اس روپ کو کوئی مغربی کہے یا مشرقی کہے، میں اسے خالص اسلامی روپ کہوں گا؛ انسانی روپ کہوں گا؛ فطری، حقیقی اور ملکوتی روپ کہوں گا۔ وہ روپ جس کو مرد حضرات چھوڑ چکے۔ جس کو ہماری قوم کے لیڈر چھوڑ چکے۔ وہ سیاسی رہنما ہوں یا مذہبی راہبر ، چند خوش قسمتوں کے سوا سب کے اخلاق ویرانے میں کھڑے ہو چکے۔ وہ گالیوں پر اتر آتے ہیں، طعنوں کو کلچر بناتے ہیں، فتووں کی مشین چلاتے ہیں۔ مسئلہ تو محض سیاسی مارکیٹ ہے مگر فتوے ارتداد کے، کفر کے اور یہودی قرار دینے کے۔ آہ! میری قوم کے

نونہال ایسے لوگوں کو رہنما اور لیڈر مان کر جب میرے مرنے کے بعد لیڈر بنیں گے تب لیڈر کیسے ہوں گے، میں یہ سوچ کر ہی رنجیدگی اور غم کی تلاطم خیز دھینگا مشتی میں اپنے رخسار اور اپنے چہرے کو بچانا شروع کر دیتا ہوں کہ کسی مشین کا قیمہ نہ بن جائوں، کسی مضبوط ٹانگ کا شکار نہ ہو جائوں۔حضورؐ نے فرمایا ”اَلْمُؤْ مِنُ مَألَفٌ‘‘ مومن الفت کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ (مسند احمد: حسن) مزید فرمایا! ”اَلْمُؤمِنُ غِرٌّ کَرِیْمٌ‘‘ مؤمن چالاکوں کی چالاکی سے ناآشنا شریف النفس اور نرم دل ہوتا ہے۔ چالاکوں کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا ! ”وَالْفَاجِرٌ خَبٌّ لَِیِٔمٌ‘‘ فاجر شخص (دینی اور اخلاقی اقدار کو پھاڑنے والا) دھوکہ باز اور مکروفریب والا ہوتا ہے۔ (مسند ابو یعلیٰ: حسن) میرے حضورؐ کے صحابہ کیسے تھے، حضرت عبداللہ بن عمروؓ کا کردار ملاحظہ ہو۔ انہوں نے گھر میں بکری ذبح کی پھر وہ کسی کام کے لئے گھر سے باہر چلے گئے، کچھ دیر کے بعد گھر تشریف لائے تو اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، تم لوگوں نے اپنے یہودی پڑوسی کے گھر گوشت کا تحفہ بھیجا ہے؟ دوبارہ مذکورہ جملہ بولتے ہوئے کہا: میں نے اللہ کے رسولؐ کو فرماتے ہوئے سنا ہے

حضرت جبریل لگاتار مجھے پڑوسیوں کے بارے میں حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے۔ حتیٰ کہ مجھے گمان ہونے لگ گیا کہ اللہ تعالیٰ پڑوسی کو وراثت میں حصہ دار بنا دیں گے۔ (ابودائود: حسن)۔ جی ہاں! صحابہ نے یہودی پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کر کے بتلا دیا کہ حضورؐ کی منشا یہ ہے کہ پڑوسی یہودی ہو یا مسیحی، ہندو ہویا سکھ اس کے ساتھ حسن سلوک اسلام ہے۔ مگر ہم کیسے لوگ ہیں کہ جمائمہ آئی تو طعنے، اب وہ لندن میں بیٹھی ہے تو طعنے۔ سوچتی تو یقینا ہو گی، میں مسلمان ہوں مگر مسلمان میری جان نہیں چھوڑ رہے۔ فتویٰ یہی ہے میں یہودن ہوں (اللہ کی پناہ ایسے رویوں سے)۔ بتلائو کون ہماری دعوت سے مسلمان ہو گا۔ حکومت نے فتووں کی مشین بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اللہ کرے وہ کامیاب ہو۔ خارجیوں نے انہی فتووں سے مسلمانوں کو بم دھماکوں سے اڑایا۔ ابھی کوئٹہ میں مسیحی برادری کا چرچ لہولہان کر دیا۔ میرے حضورؐ کے صحابہ پڑوسیوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور اسلام کا نام لے کر دہشت گرد کیا کر رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ اے مولا کریم جی! ہمیں ایسا مؤمن بنا دیجئے جو الفت و محبت کا مرکز ہو کیونکہ آپ کے حبیبؐ نے فرمایا ہے ”اس مسلمان میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں جو نہ انسانیت سے الفت کرتا ہے اور نہ ایسے (خشک زدہ) مسلمان سے (انسانیت) الفت کرتی ہے۔ (مسند احمد: حسن)

Should Computer Science be a mandatory part of a high school curriculum? The answer depends on the time horizon, and also on how one defines “computer science.” The question is moot in the short-term. In the long run, computational thinking and digital literacy will be mandatory, although perhaps integrated in other fields or introduced earlier, before high school.
In the short run: schools would need to offer computer science courses before requiring students study it.
Before answering this question, one must first ask whether schools can actually teach computer science. Today, most high schools don’t teach computer science, they don’t have a computer science teacher, so mandating that every student learn a field that isn’t even offered is silly. Fortunately, schools throughout the U.S. are now taking steps to offer computer science. And 56% of teachers believe computer science should be mandatory for all students [1]. And with Code.orgtraining tens of thousands of new C.S. teachers per year, making computer science mandatory may be possible in less than a decade.
In the long-run: parts of computer science (computational thinking and digital literacy) will be mandatory learning, starting in grades K-8.
Computational thinking – which is the logic, algorithmic thinking, and problem-solving aspects of computer science – provides an analytical backbone that is useful for every single student, in any career. Schools teach math to students regardless of whether they want to become mathematicians, because it is foundational. The same is true of computer science. Consider, at the university level, computer science satisfies graduation requirements for 95% of B.S. degrees [2].
Digital literacy – understanding things like what is the “cloud,” what are “cookies,” or how does “encryption” work – these are useful for every student, regardless of whether they want to become a lawyer, a doctor, or a coder. They are just as foundational as learning about photosynthesis, the digestive system, or other topics one learns in high school science classes.
The coding aspects of computer science – learning the syntax of a specific programming language such as C++, Java, or Python – the syntactical expertise in one language is least likely to stand the true test of time. The programming language you learn in high school is unlikely to be popular 10 years later, and it’s hard to argue that everystudent must be required to learn any single language. However, teaching a coding language is often necessary for teaching computational thinking or algorithm design, and so it’s a key part of most C.S. education.
The U.S. education system is rapidly changing to broaden access to C.S., and even to require it in many regions.
In many U.S. states (e.g. Arkansas, Virginia, Indiana), computational thinking and digital literacy have already been integrated into the mandatory standards of learning for K-8 students. In these states, the most important foundational aspects of this field will be taught to every student before they even enter high school. When students receive that background in primary school, they can decide for themselves whether they want to take a deeper programming course in high school.
At Code.org, we don’t advocate for making computer science mandatory in high school. We advocate for integrating aspects of it in primary school (grades K-8). But we also support the ambitious school districts (such as Chicago, and Oakland) that have already decided to make it a mandatory high school course.