انصاف کا جنازہ بھی پڑھ لیں

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار درست فرما رہے ہوں گے لیکن آپ ملک کی کسی عدالت میں چلے جائیں‘ آپ عدالت کا کوئی مقدمہ کھول لیں‘ آپ کی روح تک کانپ اٹھے گی‘ آپ کو انصاف بابا کی اصلیت نظر آ جائے گی‘ آپ دور نہ جائیے آپ حبیب بینک کے پنشنرز کا کیس لے لیجئے‘ حکومت نے 1974ءمیں فیصلہ کیاتھا بینکوں کے تمام ملازمین کو سرکاری ملازمین کے برابر تنخواہیں اور پنشن ملے گی‘ حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا ملکمیں جب بھی پنشن کے رولز میں تبدیلی ہوگی اس کا اطلاق بینک ملازمین پر بھی ہو گا لیکن حبیب بینک نے 1999ءمیں پنشنرز کی پنشن میں اضافہ بند کر دیا‘ بینک کے ریٹائرڈ ملازمین انتظامیہ سے درخواست کرتے رہے لیکن بینک انہیں ٹالتا رہا‘پنشنرز نے چیف جسٹس‘ وزیراعظم‘ سپیکر‘ چیئرمین سینٹ اور وزیر خزانہ سے درخواست کی لیکن خاموشی رہی‘ یہ لوگ تنگ آ کر 2013ءمیں وفاقی محتسب کے پاس چلے گئے‘ وفاقی محتسب نے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا‘ بینک نے فیصلے کے خلاف صدر پاکستان کو اپیل کر دی‘ یہ اپیل 2016ءتک صدر ممنون حسین کے دفتر پڑی رہی‘ میرے بزرگ دوست شیخ حفیظ مرحوم بھی ان پنشنرز میں شامل تھے‘ وہ ایک خوددار انسان تھے‘ وہ جنوری 2016ءمیں فوت ہو گئے‘ میں ان کے آخری دنوں کے حالات سے واقف تھا چنانچہ میں نے ان کے انتقال کے بعد حبیب بینک کے پنشنرز کےلئے کالم لکھا‘ صدر نے نوٹس لیااور 30مئی 2016ءکو پنشنرز کے حق میں فیصلہ دے دیا‘سٹیٹ بینک نے 12 جولائی 2016ءکو حبیب بینک کو فیصلے پر عمل کا حکم دے دیا لیکن بینک نے صدر پاکستان کے فیصلے کے خلاف 30 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی‘ آج اس پٹیشن کو ڈیڑھ سال ہو چکا ہے لیکن کبھی وکیل غائب ہوجاتے ہیں اور کبھی جج صاحب چھٹی پر چلے جاتے ہیں یوں پنشنرز 18 سال سے مسلسل دھکے کھا رہے ہیں‘ یہ پنشن میں اضافے کےلئے وکیلوں کی بھاری فیسیں بھی ادا کر رہے ہیں اور یہ عدالتی اخراجات بھی برداشت کر رہے ہیں‘ یہ بے چارے 70 سے 90سال کے بزرگ ہیں‘ یہ آج کی مہنگائی میں 8300 روپے میں کیسے گزارہ کرتے ہوں گے‘ یہ عدالت تک کیسے پہنچتے ہوں گے اور یہ عدالت سے مایوس ہو کر کیسے واپس آتے ہوں گے‘ چیف جسٹس بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں‘ چیف جسٹس یہ اندازہ بھی کر سکتے ہیں یہ لوگ 2015ءمیں

3044 تھے‘ یہ دسمبر 2017ءتک 2743 رہ گئے ہیں گویا 300 پنشنرز انصاف ملنے سے قبل زندگی کی بازی ہار گئے ‘ حبیب بینک کا اوسطاً ایک پنشنر روزانہ فوت ہو رہا ہے اور پنشنرز کا یہ انتقال بینک کی انتظامیہ اور وکلاءکی حکمت عملی ہے‘یہ جانتے ہیں بینک کے وکلاءکیس کو سال دو سال اسلام آباد ہائی کورٹ میں گھسیٹ لیں گے‘ یہ اس کے بعد انٹرا کورٹ اپیل میں چلے جائیں گے اور یہ اس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کر دیں گے اور یوں 2030ءآ جائے گا اور اس دوران باقی 2743 پنشنرز بھی مر جائیں گے یوں بینک ادائیگی سے صاف بچ جائے گا‘ میرا چیف جسٹس آف پاکستان سے سوال ہے کیا یہ رویہ انصاف کے راستے میں رکاوٹ نہیں اور کیا جج اور وکلاءاس کے ذمہ دار نہیں ہیں اور اگر انصاف بابا ہے تو کیا بابے اپنے بچوں کے ساتھ یہ رویہ رکھتے ہیں؟۔ہماری عدالتوں کا ایک طرف یہ رویہ ہے‘ یہ بوڑھے پنشنرز کے حق میں بھی رکاوٹ بن جاتی ہیں جبکہ آپ دوسری طرف انصاف بابا کا کمال دیکھئے‘ چیف جسٹس آف پاکستان کسی دن ایف نائین پارک تشریف لے جائیں‘ آپ کوپارک میں ایک وسیع اور شاندار عمارت نظر آئے گی‘ یہ کلب کی عمارت تھی‘ کامران لاشاری کے دور میں سی ڈی اے نے ایف نائین پارک میں سٹیٹ آف دی آرٹ کلب بنانا شروع کیا‘ کلب کےلئے اربوں روپے کا بجٹ مختص ہوا‘نیر علی دادا نے ڈیزائن کیا‘ تعمیر شروع ہو گئی‘چیف جسٹس کو سوموٹو نوٹس لینے کا شوق تھا‘ یہ کلب بھی اس شوق کی زد میں آگیا‘افتخار محمدچودھری نے کلب کی تعمیر رکوا دی‘ یہ عمارت اب 12 سال سے بھوت بنگلہ بنی کھڑی ہے‘ عمارت پر اربوں روپے بھی خرچ ہو گئے اور سی ڈی اے اینٹوں اور پتھروں کی حفاظت بھی کر رہا ہے‘ ان 12 برسوں کے دوران ٹھیکے دار ادائیگیوں کےلئے ذلیل ہو کر مر کھپ گئے‘ میں ہفتے میں دوبار واک کےلئے ایف نائین پارک جاتا ہوں‘ میں جب بھی اس عمارت کے قریب پہنچتا ہوں میرا دل بیٹھ جاتا ہے‘کیا یہ کسی کے باپ کا پیسہ تھا‘آپ کو کیا حق پہنچتا تھا آپ نے ٹھیکہ لینے اور کام کرنے والوں کو کوڑی کوڑی کا محتاج کر دیا‘ یہ اربوں روپے کی زمین تھی‘ سی ڈی اے اگر آج یہ زمین اور یہ عمارت بیچ دے تو یہ دس پندرہ ارب روپے کما لے گا لیکن آپ نے نہ صرف یہ زمین باندھ دی بلکہ آپ نے سی ڈی اے پر اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ڈال دی‘ سی ڈی اے اب اینٹوں کی حفاظت پر لاکھوں روپے خرچ کر رہا ہے‘ یہ منصوبہ دو تین سو لوگوں کو جاب دے سکتا تھا‘یہ کروڑوں روپے ماہانہ بھی کما سکتا تھا اور یہ اسلام آباد کے شہریوں کےلئے بھی مفید تھا ‘ کیا ہم اس منصوبے کو ”کھو کھاتے“ ڈالنے والے ججوں سے اس ظلم کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں؟ کیا ہم ریٹائرمنٹ کے بعد بھی افتخار محمد چودھری سے یہ سوال کر سکتے ہیں جناب آپ نے قوم کے اربوں روپے کیوں برباد کر دیئے؟ میں موجودہ چیف جسٹس سے بھی ادب کے ساتھ عرض کرتا ہوں یہ عمارت کب تک انصاف کا نوحہ بن کر کھڑی رہے گی‘ اس کی سزا کب ختم ہوگی؟۔ہمارے چیف جسٹس ثاقب نثار نے 16 دسمبر کو درست فرمایا ”ججوں پر دباﺅ ڈالنے والا پیدا نہیں ہوا اور عدلیہ قوم کا بابا ہے“ لیکن چیف جسٹس نے اسی خطاب کے دوران حاضرین کو ایک اندھی بیوہ کا واقعہ بھی سنایاتھا‘ خاتون اور اس کا مرحوم خاوند سنی العقیدہ تھے‘ خاوند انتقال کے بعد بھاری زرعی جائیداد چھوڑ گیا‘ سنی فرقے میں بیوہ جائیداد میں حصہ دار ہوتی ہے جبکہ شیعہ قانون وراثت میں بیوہ کو زرعی زمین میں حصہ نہیں ملتا ‘ مرحوم کے بھتیجوں نے اپنے چچا اور بیوہ کو شیعہ ڈکلیئر کیا اور مرحومہ کی ساری جائیداد ہڑپ کر گئے‘خاتون نے عدالت سے رجوع کیا‘ یہ خاتون سترہ سال عدالتوں میں فٹ بال بنی رہی‘ اس کی بینائی چلی گئی‘ یہ ٹٹول ٹٹول کر عدالتوں تک پہنچتی رہی لیکن یہ بے بس عورت سول کورٹس میں بھی مقدمہ ہار گئی اور یہ ہائی کورٹ میں بھی‘ یہ آخر میں سپریم کورٹ پہنچی‘ جسٹس ثاقب نثار نے اس کا کیس سنا‘ خاتون سچی تھی چنانچہ چیف جسٹس نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا لیکن سوال یہ ہے اب اس خاتون کو اس فیصلے کا کیا فائدہ ہو گا؟ انصاف کی تلاش میں اس کے 17 سال برباد ہو گئے‘یہ اندھی ہو گئی اور یہ قرض اٹھا اٹھا کر وکیلوں کی فیسیں ادا کرتی رہی‘ یہ اب اس جائیداد کا کیا کرے گی؟ کیا چیف جسٹس کے پاس اس سوال کاکوئی جواب ہے اور کیا اس ملک میں کوئی شخص ان ججوں سے پوچھ سکتا ہے جنہوں نے جانتے بوجھتے اس بے بس خاتون کو انصاف نہیں دیا‘ جو ہر عدالت میں ہر منصف کے سامنے فریاد کرتی رہی‘ میں اور میرا خاوند سنی العقیدہ ہیں لیکن مخالف پارٹی جعلی گواہوں کی مدد سے عدالت میں اسے شیعہ ثابت کرتی رہی‘کیا چیف جسٹس نے اس بے بس بیوہ کو 17سال تک عدالتوں میں ذلیل کرنے والوں سے اس ظلم حساب لیا؟ ہمیں آج ماننا ہوگا ہم انصاف کے بدترین نظام کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں‘ ہمارے ملک میں لوگ جب اپنے کسی مخالف کو عبرت کا نشان بنانا چاہتے ہیں تو یہ اسے عدالت میں لے جاتے ہیں اور عدالت اس کا وہ حشر کر دیتی ہے جو اس کے سارے مخالف مل کر بھی نہیں کر سکتے تھے‘ ہمارے ملک میں لوگ دوسروں کو دھمکی دیتے ہیں تم باز نہ آئے تو میں تمہیں عدالتوں میں گھسیٹوں گا ‘ہمیں ماننا پڑے گا لوگ ہمارے بابا کو گھسیٹنے والی جگہ سمجھتے ہیں‘ چیف جسٹس کا فرمان درست ہوگا آج تک کسی ماں نے ایسے لال پیدا نہیں کئے جو ہماری عدلیہ کو دباﺅ میں لا سکیں‘ جو ہمارے ججوں سے اپنی مرضی کے فیصلے لے سکیں لیکن ہم ان اندھی بیواﺅں کو کہاں رکھیں گے‘ ہم کلب جیسی مثالوں کا کیا جواب دیں گے اور ہمارے پاس ان پنشنروں کے مقدموں کی کیا جسٹی فکیشن ہے ‘ سیٹھ عدالت میں پانچ پانچ کروڑ روپے کے وکیل کھڑے کر دیتے ہیں‘ بزرگ پنشنرز مرتے جاتے ہیں‘وکیل کی فیس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور عدالت کے انصاف کے ڈنکے بجتے چلے جاتے ہیں اور ہمارے پاس ان وکیلوں کی بدتمیزیوں کا بھی کیا جواز ہے جو عدالتوں کے اندر اپنے موکلوں کو گالیاں دیتے ہیں‘ ججوں کو تھپڑ مارتے ہیں اور جوڈیشل کمپلیکس کا فرنیچر اور شیشے توڑ دیتے ہیں‘ اگر ہمارے انصاف بابا کا گریبان اپنے وکیل بچوں کے ہاتھوں سے محفوظ نہیں تو پھر ملک میں باقی کیا بچ جاتا ہے‘ کاش ہماری عدلیہ تمام ججوں اور تمام وکیلوں کو حضرت علیؓ کے اس قول کا مطلب سمجھا دے ” معاشرہ کفر کے ساتھ تو چل سکتا ہے لیکن بے انصاف سماج زندہ نہیں رہ سکتا“ ہمارے معاشرے کےلئے اس سے بڑی موت کیا ہوگی ہمارے چیف جسٹس لائیو کیمروں کے سامنے اپنی غیرجانبداری کی قسم کھانے پر مجبور ہیں چنانچہ ہمیں اب جمہوریت کے ساتھ ساتھ انصاف کا جنازہ بھی پڑھ لینا چاہیے۔نوٹ:احباب نے پچھلے کالم اللہ تعالیٰ کے سو احکامات میں غلطی کی نشاندہی فرمائی‘ میں نے 53ویں حکم میں بریکٹ میں کزن میرج لکھ دیا تھا‘ یہ میری غلطی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے صرف خونی رشتوں سے شادی سے پرہیز کا حکم دیا‘ کزن میرج سے نہیں روکا‘ میں غلطی پر معذرت خواہ ہوں۔

Should Computer Science be a mandatory part of a high school curriculum? The answer depends on the time horizon, and also on how one defines “computer science.” The question is moot in the short-term. In the long run, computational thinking and digital literacy will be mandatory, although perhaps integrated in other fields or introduced earlier, before high school.
In the short run: schools would need to offer computer science courses before requiring students study it.
Before answering this question, one must first ask whether schools can actually teach computer science. Today, most high schools don’t teach computer science, they don’t have a computer science teacher, so mandating that every student learn a field that isn’t even offered is silly. Fortunately, schools throughout the U.S. are now taking steps to offer computer science. And 56% of teachers believe computer science should be mandatory for all students [1]. And with Code.orgtraining tens of thousands of new C.S. teachers per year, making computer science mandatory may be possible in less than a decade.
In the long-run: parts of computer science (computational thinking and digital literacy) will be mandatory learning, starting in grades K-8.
Computational thinking – which is the logic, algorithmic thinking, and problem-solving aspects of computer science – provides an analytical backbone that is useful for every single student, in any career. Schools teach math to students regardless of whether they want to become mathematicians, because it is foundational. The same is true of computer science. Consider, at the university level, computer science satisfies graduation requirements for 95% of B.S. degrees [2].
Digital literacy – understanding things like what is the “cloud,” what are “cookies,” or how does “encryption” work – these are useful for every student, regardless of whether they want to become a lawyer, a doctor, or a coder. They are just as foundational as learning about photosynthesis, the digestive system, or other topics one learns in high school science classes.
The coding aspects of computer science – learning the syntax of a specific programming language such as C++, Java, or Python – the syntactical expertise in one language is least likely to stand the true test of time. The programming language you learn in high school is unlikely to be popular 10 years later, and it’s hard to argue that everystudent must be required to learn any single language. However, teaching a coding language is often necessary for teaching computational thinking or algorithm design, and so it’s a key part of most C.S. education.
The U.S. education system is rapidly changing to broaden access to C.S., and even to require it in many regions.
In many U.S. states (e.g. Arkansas, Virginia, Indiana), computational thinking and digital literacy have already been integrated into the mandatory standards of learning for K-8 students. In these states, the most important foundational aspects of this field will be taught to every student before they even enter high school. When students receive that background in primary school, they can decide for themselves whether they want to take a deeper programming course in high school.
At Code.org, we don’t advocate for making computer science mandatory in high school. We advocate for integrating aspects of it in primary school (grades K-8). But we also support the ambitious school districts (such as Chicago, and Oakland) that have already decided to make it a mandatory high school course.